بھٹکل، یکم دسمبر (ایس او نیوز)جنتا دل لیڈر، سابق وزیر تعلیم حکومت کرناٹکا اور موجودہ ودھان پریشد کے رکن بسوا راج ہورٹّی نے دعویٰ کیا ہے کہ:’’ کووڈ کی وجہ سے تعلیمی نظام بری طرح تباہ ہوگیا ہے اور ریاستی حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ ایسے میں اگر مجھےموقع دیاگیا تو صرف 6دن کے اندر پورا نظام درست کر کے دکھا دوں گا۔ ورنہ میرا نام بدل دینا!‘‘
موصولہ رپورٹ کے مطابق بسواراج ہورٹّی شہر میں ایک نجی پروگرام میں شرکت کے لئے پہنچے تھے۔اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں تو پہلے سے یہ بات کہتارہا ہوں کہ پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کلاسس کی ضرورت نہیں ہے۔ نوویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کو دس دس کے بیاچ میں تقسیم کرکےان کے لئے الگ الگ کلاسس جاری کرنے کی میں تحریری طور پرحکومت کو صلاح بھی دی تھی۔اس کےعلاوہ کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران جس طرح رکشہ ڈرائیورس اور مزدوروں کو پیکیج دئے گئے تھے اسی طرح اساتذہ کے لئے بھی پیکیج دینے کا مشورہ دیاتھا۔ لیکن حکومت ہمارے تجربہ اور مشورے پر دھیان دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت اپنی پبلسٹی کے لئے عوام کو یہ مشورہ دیتی ہے کہ نجی اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین ان کی فیس ادا نہ کریں۔لیکن سوال یہ ہے کہ نجی اسکولوں میں طلبہ کی فیس پر ہی تنخواہیں پانے والے اساتذہ آخر کہاں جائیں ۔آج صورت حال یہ ہے کہ کتنے ہی نجی اسکولوں کے اساتذہ کے پاس دوا خریدنے تک کے پیسےنہیں ہیں۔اس وجہ سے نجی اسکولوں کے اساتذہ احتجاجی مظاہرے کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور ایسی حالت میں ان کی حمایت کرنا ضروری ہوگیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کا جو معاملہ چل رہا ہے اس کے تعلق سے پوچھنے پر بسواراج ہورٹّی نے کہا کہ اقتدار میں رہتے ہوئے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کا مسئلہ پیدا ہونا کوئی غیر معمولی با ت نہیں ہے ، لیکن بی جے پی کے اندر جو کھلبلی ہے وہ فکر کی بات ہے۔ حکومت اگر عوامی بہبود کی سرگرمیوں میں مصروف رہے تو اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی بڑا کام کیا جاسکتاتھا۔ لیکن یہاں تو دوسری پارٹیوں کے اراکین کو ورغلاکر اپنی پارٹی میں گھسیٹنے کا کام کیا گیا ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ جو لوگ اپنی اپنی پارٹیاں تیاگ کرکے وہاں پہنچے ہیں ان سب کو وزارت کا قلمدان دینا لازمی ہوگیا ہے۔اس وقت عوامی مفاد کے لئےحکومت چلانے کا کام ہوہی نہیں رہا ہے۔ بس وزارت دینے اور قلمدان واپس لینے جیسے ردوبدل کے کام ہی کیے جارہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت اگرایڈی یورپا مصالحت کا طریقہ اپنائیں تو ہی بات بن سکتی ہے ، ورنہ لنگایت سماج کی مخالفت مول لینا یقینی ہے۔